ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شراب خانے کے قریب اسکول کے خلاف عرضی مہنگی پڑ گئی ،عرضی گزار شراب خانہ کے مالک پر پچیس ہزار روپئے کا جرمانہ

شراب خانے کے قریب اسکول کے خلاف عرضی مہنگی پڑ گئی ،عرضی گزار شراب خانہ کے مالک پر پچیس ہزار روپئے کا جرمانہ

Mon, 31 Jul 2017 12:58:08    S.O. News Service

بنگلورو،30 ؍جولائی(ایس او  نیوز) ایک شخص جو اپنے شراب خانہ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے بجائے اسکول کو راستہ سے ہٹانا چاہتا تھا اسے ایک سخت سبق سیکھنا پڑا ۔’’قانون کے آہنی پنجوں‘‘نے ایک شراب خانہ کے مالک کو کاری ضرب لگائی جب اس نے ، اس قانون سے خود بچنے کے لئے جو تعلیمی اداروں کے قریب شراب خانوں پر پابندی عائد کرتا ہے، ایک تیڑھا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔اس شخص کی طرف سے دائر کردہ ’’بہادرانہ‘‘ تنازعات سے ناراض ہو کر ریاستی ہائی کورٹ نے اس شخص پر پچیس ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ بھی کہ مذکورہ رقم اس اسکول کو ادا کی جائے گی جس کے خلاف اس نے مقدمہ دائر کیا تھا۔وہ شراب خانہ اسکول کے ایک سو میٹر کے اندر احاطہ میں موجود تھی جو کہ کرناٹک ایکسائز لائسنس ضابطے 1967 کے خلاف ہے۔اس مسئلہ سے پیچھا چھڑانے کے لئے شراب خانہ کے مالک نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی کہ شراب خانہ کے بجائے اس اسکول ہی کو بند کر دیا جائے لیکن ہائی کورٹ نے اس کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے ایک مثال قائم کردی۔دیوارا چکنا ہلی (بیگور) میں واقع سری دیوی بار اینڈ ریسٹورنٹ کے مالک این ایم تیرتھے گوڈا نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے سال 2015 میں بلاک ایجوکیشن افسر کی جانب سے سیما انگلش اسکول کو فراہم کردہ اندراج کو رد کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔عرضی گزار نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ بنگلور ترقیاتی انتظامیہ(بی ڈی اے) کو ہدایت دی جائے کہ اسکول کوفراہم کر دہ شہری سہولیات سائٹ کو بھی رد کیا جائے۔یہ شراب خانہ ، اس تعلیمی ادارہ کے ایک سو میٹر کے احاطہ میں موجود ہے، گوڈا یہ عرضی داخل کرتے ہوئے ’’اس حد تک چلا گیا تھا کہ اس اسکول کے رجسٹریشن ہی کو رد کئے جانے کا مطالبہ کیا‘‘۔

واضح رہے کہ ایکسائز سے متعلق مذکورہ بالا ضابطہ کسی تعلیمی ادارہ یا عبادت کے مقام سے ایک سو میٹر کے احاطہ میں شراب خانہ یا شراب فروحت کئے جانے کی کوئی جگہ قائم کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔گوڈا کی اس عرضی سے ہائی کورٹ خوش نہیں تھا، جسٹس ونیتھ کوٹھاری جنہوں نے اس معاملہ کی سماعت کی تھی نے کہا کہ’’بظاہر یہ ایک عجیب مطالبہ تھا جو عرضی میں کیا گیا تھا عرضی گزار کی طرف سے یہ مطالبہ کر کے کرناٹک ایکسائز لائسنس (عمومی پابندیاں) ضابطے 1967 کی دفعہ 5(A) کے مقصد ہی کو شکست دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس طرح کے ’’بہادرانہ‘‘ تنازعات کو انصاف کے آہنی ہاتھوں کے ذریعہ ختم کر دئے جانے کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔عرضی گزار شراب خانہ کے مالک کی باتوں کو رد کرتے ہوئے عدالت نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی شہری سہولیات کی سائٹ پر اسکول کی تعمیر میں کوئی غلطی نہیں ہے۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ’’ایکسائز کے لائسنس کے حامل فرد کو چاہئے کہ وہ ضابطہ 5(A) کے اصولوں کا اہتمام کریں اور وہ اسکول جیسے ادارہ کو بند کئے جانے، اس کی منتقلی یا پھر اسکول کی منظوری کو واپس لئے جانے وغیرہ کا، عرضی دائر کرنے کے ذریعہ مطالبہ نہیں کر سکتے۔کوئی بھی اسکول کسی شہری سہولیات کی سائٹ پر بھی قائم کی جاسکتی ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں پائی جاتی‘‘۔ہائی کورٹ نے نا صرف اس عرضی کو خارج کر دیا بلکہ عرضی گزار پر پچیس ہزار روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا جو کہ اسکول کو دیا جانا ہوگا۔عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ’’یہ عرضی اس قیمت پر خارج کی جاتی ہے کہ عرضی گزار کی طرف سے مدعا علیہ ’’سیما اسکول‘‘ کی خدمت میں پچیس ہزار روپئے ایک ماہ کے اندر ادا کئے جائیں، اگر عرضی گزار اس میں کوتاہی برتتا ہے تو ایکسائز محکمہ عرضی گزار کی طرف سے اس رقم کو وصول کریگا اور وہ مدعا علیہ ۔سیما اسکول کو ادا کئے جائیں گے‘‘۔


Share: